ایمانداری کا صلہ
ایک گاؤں میں احمد نام کا ایک غریب لڑکا رہتا تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ محنت مزدوری کرتا تھا۔ ایک دن وہ بازار جا رہا تھا کہ اسے راستے میں ایک بٹوا ملا۔ بٹوے میں کافی رقم اور کچھ ضروری کاغذات تھے۔
احمد چاہتا تو وہ رقم اپنے پاس رکھ سکتا تھا، کیونکہ اس کے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے۔ لیکن اس نے سوچا کہ یہ کسی کی امانت ہے۔ وہ بٹوا لے کر بازار پہنچا اور مالک کو تلاش کرنے لگا۔
کچھ دیر بعد ایک بوڑھا آدمی پریشان حال نظر آیا۔ احمد نے اس سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اسی کا بٹوا گم ہوا تھا۔ احمد نے فوراً بٹوا اسے واپس کر دیا۔
بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا۔ اس نے احمد کو انعام دینا چاہا، مگر احمد نے کہا: "میں نے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔"
چند دن بعد معلوم ہوا کہ وہ بوڑھا آدمی ایک کامیاب تاجر تھا۔ اس نے احمد کی ایمانداری سے متاثر ہو کر اسے اپنی دکان پر ملازمت دے دی۔ وقت گزرتا گیا، احمد نے محنت اور دیانت داری سے کام کیا اور ایک دن وہ اسی کاروبار کا شریک بن گیا۔
سبق:
ایمانداری کبھی ضائع نہیں جاتی۔ شاید اس کا صلہ فوراً نہ ملے، لیکن آخرکار ضرور ملتا ہے۔