u/ElodinDanGlokta

▲ 7 r/Urdu

Ghazal. Thoughts?

درخت زرد ہیں سورج نڈھال لگتا ہے
زمین و چرخ سبھی کچھ وبال لگتا ہے

یہ کیسا دزد حنائی ہے تیرے ہاتھ اوپر
کہ دن دہاڑے بھی ماہ کمال لگتا ہے

لبوں پہ رنگ حنائی ہے چہرے زرد سے ہیں
تمام شہر مجھے پائمال لگتا ہے

زہے زمانہ کبھی وقت ہی نہیں ملتا
کبھی تو دن کے گزرنے میں سال لگتا ہے

زوال شخص شناسی نے ایسا لوٹا ہے
علی ظفر بھی ہمیں دانیال لگتا ہے

سیاہ زلف اگر ہاتھ شاتھ میں آئے
تو زرد شرد کبھی لال شال لگتا ہے

نہ شور شاعری میں ہے نہ شور مے نوشی
دہن بھی کام سے کچھ کوتوال لگتا ہے

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 1 day ago
▲ 6 r/Urdu

غزل۔ آپ کی رائے کا منتظر، تعریضؔ

واعظا درس نہ دے ہم نے تو مر جانا ہے
اور اک تو ہے کہ تو نے تو گزر جانا ہے

ہائے اللہ رے دنیا سے بچانا مجھ کو
وعدۂ زیست کیا تھا سو مکر جانا ہے

کہو جوتِش کہو گردش ہمیں کیا اس سے خلش
ہم نے تو در سے ترے چاند نگر جانا ہے

اور افسوس کو افسوس پہ لادو کہ مجھے
باندھ کر دل پہ ذرا رخت سفر جانا ہے

تو ہوا عہد سے آزاد مبارک ہو تجھے
اے سبک سر ترے تعریضؔ نے مر جانا ہے

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 6 days ago
▲ 3 r/Urdu

Wrote a Short-Metered Ghazal. Would Love Some Feedback

آپ کے راز جانا کرتے ہیں
بس یونہی دل برا نہ کرتے ہیں

ایک مدت سے آرزو ہی نہیں
خواست بھی تو خدا نہ کرتے ہیں

ہم دو ٹھہرے سلیم انار کلی
اب کہیں گور خانہ کرتے ہیں

مے کدے میں شراب یا چکنا
بس یونہی آب و دانہ کرتے ہیں

دل ناکام کچھ نہیں کرتا
اور ایک آپ کیا نہ کرتے ہیں

مے پلائی رقیب کو گھر میں
دشمنی دوستانہ کرتے ہیں

اور ہم سے رہا نہ جائے گا
نام تیرے زمانہ کرتے ہیں

درس و اصلاح تو ہوئی ہو گی
باتیں کیوں جاہلانہ کرتے ہیں

لوگ دنیا میں دو طرح کے ہیں
ایک جو بات جانا کرتے ہیں

“آسماں سندھ کی زمیں کی ہے”
بس فرشتے بہانہ کرتے ہیں

رات کو پائے اور پراٹھے کھائے
ہم ڈنر ناشتانہ کرتے ہیں

شاعری کر نہیں سکے تعریضؔ
آپ بس ناچ گانا کرتے ہیں

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 13 days ago
▲ 3 r/Urdu

غزل

ہم دل جگر کی ایسی کی باہم لگا دیے
جیسے بھی تھے وہ درہم و برہم لگا دیے

جو اشک میرے حصے کے تھے ختم ہو گئے
بھولے سے زندگی نے بہت غم لگا دیے

یوں پیچ و تاب ہی میں مری عمر کٹ گئی
گیسو سنوار کر جو ذرا خم لگا دیے

جن کو بہشت کا تو ذرا تجربہ نہ تھا
وہ لوگ کیوں زمین پہ یک دم لگا دیے

جس فصلِ بے ثمر میں کوئی گل نہ کھل سکا
کس نے وہاں پہ عشق کے موسم لگا دیے

میں بھی بھرا غبارِ جنوں میں گیا وہاں
ان نے بھی ٹیکے عشق کے کم کم لگا دیے

اب دل زمین پر سبھی جھگڑا فساد ختم
ہم نے کسی کے نام کے پرچم لگا دیے

تعریضؔ دیکھنے کو گئے تھے حرم میاں
خاطر میں کس کی عجوہ و زمزم لگا دیے

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 16 days ago
▲ 1 r/Urdu

ایک غزل

ہونے کو اس نے کہہ دیا یک بار ہو گیا
عجلت میں کارخانہ تو مسمار ہو گیا

زنجیر التفات کہاں لے گئی مجھے
آزاد مرد کیسے گرفتار ہو گیا

دارو دوا کی مجھ کو ضرورت نہیں طبیب
یوں ہی کسی کے عشق میں بیمار ہو گیا

ہم کو بسنت میں جو حویلی دکھی تری
اڑتا پتنگ نقش بہ دیوار ہو گیا

جب چودھویں کی رات میں خواب آئے یار کا
بس یوں سمجھیے چاند کا دیدار ہو گیا

ذلت ہے شاعری میں یا لذت در جنون
تعریضؔ تیری سن کے غزل خوار ہو گیا

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 22 days ago
▲ 1 r/Urdu

استعماریت

کہیں دور سے کچھ افق تاب آنکھیں تمہیں جھانکتی ہیں
کبھی ان افق تاب آنکھوں میں جھانکو
کبھی تم بھی دیکھو
کہ ان کہنہ آنکھوں میں ہے آشنائی کہن کی
انہیں تم افق تاب ہی مت سمجھنا
ہاں مانا کہ ان میں تمہیں اپنے حال اور ماضی کی پرتیں ملیں گی
عین ممکن تمہیں استعارے دکھیں گے
کہیں عاقبت کے کہیں پر عقوبت
نہ ان استعاروں کو سچ مان لینا

فریب و دغا اور حیلہ
یہ ان کہنہ آنکھوں کی کہنہ پھبن ہیں
ازل سے وہ آنکھیں اسی میں مگن ہیں
بہت لوگ ان آنکھوں کی تابندہ شوخی میں غرقاب ہوتے ہوئے مر گئے ہیں
گھر و بار چھوڑے
کسی ناخدا کو لیے
وہ سفر کرتے کرتے
ان آنکھوں میں مجذوب ہو کر وہیں رہ گئے ہیں
وہ جس سر زمیں سے نکل کر گئے تھے
وہ بستی بہت دور کھو ہی گئی ہے
وہ اب اس زمیں کے نہیں ہیں
ان آنکھوں تلک بھی رسائی کہاں تھی
وہ اب بس کہیں کے نہیں ہیں
اسی بے نشان اور بے نام دریا میں یوں ہی بہے جا رہے ہیں
وہ اب بھی ان آنکھوں میں مجذوب ہیں

اسیرِ کہن تھا افق تاب آنکھوں کا میں بھی کبھی
وہ آنکھیں جو کوئی زمانے سے مجھ کو تکے جا رہیں تھیں
ان آنکھوں میں مجذوب ہو کر سمندر کنارے تلک میں گیا تھا
وہ آنکھیں
افق تاب آنکھیں
کہ جن میں سبھی دیو سارے خداؤں کا سایہ دکھا تھا
وہ مژگاں
وہ مژگاں کہ جن پر کہا میر نے
“دکھائی دیے یوں کہ بےخود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے”
وہ آنکھیں
فلک تاز
آنکھیں
وہ مژگاں
نظر ساز
مژگاں

میں ان میں کہیں چور ہونے لگا تھا
دوئی سے بہت دور ہونے لگا تھا
میں ان میں خود اپنے کو کھونے لگا تھا

کئی سال میں ان کو دیکھے گیا
سمندر کنارے پرکھتے گیا
وہ لہریں بھی آنکھوں کی مجذوب تھیں
انہیں بھی وہ مژگاں ہی مطلوب تھیں

اٹھی جو کوئی لہر اٹھتی ہوئی
مرے دیکھتے اک مژہ پر لگی
وہ شوخی وہ تابانیِ چشمِ خشک
جلی لہر، ابلے سمندر کی مشک
یہ بدبو مری سانس میں جب چڑھی
کھلی آنکھ، دیکھا میں آتش زنی
نہ بے دار ہوتا نہ آتا نظر
کہ آنکھیں محرک نہ مژگان تر

وہ ساکن تھیں جامد تھیں اٹکی ہوئیں
مگر میرا جوہر پرکھتی ہوئیں
میں گھبرا کے کچھ دیر تک چپ رہا
ان آنکھوں کو دیکھے ہی دیکھے گیا
وہ شوخی و عشوہ و غمزہ زنی
کا
اثر تک ان آنکھوں میں باقی نہی

میں تم سے بھی کہتا ہوں اے میری جاں
ان افق تاب آنکھوں میں جھانکو
کبھی تم بھی دیکھو
ان آنکھوں میں ڈھونڈو سکون و جمود
کہ مخفی نہیں ان میں ہست اور بود

وہ غدار آنکھیں
وہ مکار مژگاں

سمندر کنارے پہ بیٹھے رہو
انہیں تم بھی دیکھے ہی دیکھے چلو
وقت کی ریل جب ختم ہو جائے
ساعتیں جب سبھی بھسم ہو جائیں
چٹانیں بھی روئی طرح نرم ہو جائیں
برف ساری پگھل کر بہت گرم ہو جائے
جب وہ آنکھیں بھی بےزار ہو کر جھپک لیں
تو پھر لوٹ کر واپس آنا

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 25 days ago
▲ 3 r/Urdu

غزل۔ آپ کی رائے مطلوب

یہ زخم دل تھوڑا دائمی ہے نہ بھر رہے گا
لگے گا بھرنے ہی تو لگا ہے مگر رہے گا

نہ فصل گل ہے نہ مے کدہ ہے نہ شاعری ہے
تمہی کہو بلبل اس فضا میں کدھر رہے گا

مزاج پرسی کے وقت بھی یے کہے ہے ہرجائی
گلہ خدا ہی سے مل کے کرنا اگر رہے گا

یہ سرمدی سا مکاں بنا کر ہمیں نہ بیچو
نہ ہم رہیں گے نہ تم رہو گے نہ گھر رہے گا

نظر شرربار ان کی ہوتی ہے ہم پہ ہر وقت
ہماری آنکھوں میں اک سمندر مگر رہے گا

تمہارا تعریضؔ ڈھیٹ بھی اور مست بھی ہے
جو جی میں ٹھانی سو ٹھن گئی ہے وہ کر رہے گا

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 1 month ago
▲ 2 r/Urdu

کامل مثمن سالم

اس بحر کے ارکان ہیں “متفاعلن” x4۔ لیکن میں نے بعض جگہ لوگوں کو پہلا رکن “مستفعلن” بھی کرتے دیکھا ہے۔ کیا کلاسیک میں اس کی اجازت ہے، یا پھر یہ جدید دور کی تخلیق ہے؟

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 2 months ago
▲ 1 r/shayri

چاندنی

رات کو یہ چاندنی یوں ہوئی دشمن تری
روشنی تیری تھی ایک دوسری ایضاً تری

عکس ہائے آئنہ سب تری تصویر ہیں
جانتا ہوں بس تجھے تو کہ “از من من تری”

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 2 months ago
▲ 2 r/Urdu

چاندنی

رات کو یہ چاندنی یوں ہوئی دشمن تری
روشنی تیری تھی ایک دوسری ایضاً تری

عکس ہائے آئنہ سب تری تصویر ہیں
جانتا ہوں بس تجھے تو کہ “از من من تری”

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 2 months ago
▲ 2 r/Urdu

عید مبارک۔ احباب نے تہذیب حافی کی نقل میں غزل لکھنے کا کہا۔ پیش خدمت

ملنے شیطان کبھی آئے ہائے
پھر ہمیں دیکھ کے شرمائے ہائے

لفظ حسرت ہے کہ اوئے ہو ئے
لفظ آرام ہے کہ آئے ہائے

کاش آ جاؤ مگر اور نہیں
لفظ یہ سارے سکھا جائے ہائے

شبِ ظلمت میں کبھی آپ ملیں
اور کہیں ابر برس جائے ہائے

درد و آزار و غم و رنْج و خلش
سب ترے ہجر کے ہیں سائے ہائے

رات گو ہجر میں گزرے پہ ملیں
صبح لاہوری سری پائے ہائے

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 3 months ago
▲ 4 r/Urdu

واللہ بہت مشکل و نقصان سے نکلے

ہم جب سے کہ اس قید دل و جان سے نکلے

پرچہ ہے وفا کا تو بہت سخت سنا تھا

پر سارے سوالات تو آسان سے نکلے

ہاں ٹھیک ہے ذرے پہ تحیر ہے مجھے بھی

حیران ہوں سب دہر پہ حیران سے نکلے

حلوے سے کہ اس کو بھی کوئی ربط تو ہو گی

مہدی کا بھی امکان ہے ملتان سے نکلے

کیوں اشک مرا آنکھ سے ٹپکے گا پلک تک

صحرا میں اتر آئے جو باران سے نکلے

ہم کونسے غالب ہیں کہ بے آبرو ہوتے

کوچے سے ترے ہم تو بڑی شان سے نکلے

سب بھول چکا رنج جو دنیا نے دیے ہیں

اور یاد تو کیا آپ تو نسیان سے نکلے

جنات سے ایمان بھی اٹھ جائے گا تعریضؔ

گر عشق کا یہ بھوت مری جان سے نکلے

reddit.com
u/ElodinDanGlokta — 4 months ago