اردو اور اسکی چاشنی اور معاشرے کی زیادتی۔۔
ہم جو 80 اور 90 ہے اوائل کے لوگ شاید آخری نسل ہیں جو اردو کا درد رکھتے ہیں۔۔۔
پر صاحب شکوہ ہے، اردو چول چال میں انگریزی کو بطور ترقی کی علامت سمجھنا شروع کردیا ہے۔۔۔
یہ صریح غلط فہمی اور جہالت کا نچلا درجہ ہے کہ اپنی شناخت کو ہم دوسری زبان سے جوڑ کر اسے ترقی گردانے اور اس پے دکھاوا کرتے پھریں۔۔۔
یعنی اچھی اردو گفتگو سے ناپید ہوتی محسوس ہورہی ہے۔۔۔
میری ذاتی کوشش ہوتی ہے کہ انگریزی کا ایک لفظ بھی کسی بھی فقرے میں شامل نا ہو پائے۔۔۔
آپ لوگوں کی کیا رائے ہے۔۔۔؟؟