u/kcahrot

اپنا سب کچھ لٹائے بیٹھے ہیں
▲ 8 r/Urdu

اپنا سب کچھ لٹائے بیٹھے ہیں

کس لیے دل لگائے بیٹھے ہیں؟

اپنا سب کچھ لٹائے بیٹھے ہیں

تیری الفت میں ہم سے ناقص بھی

چاند تارے سجائے بیٹھے ہیں

نور آنکھوں میں یاد کا بھر کے

چشمِ نم جگمگائے بیٹھے ہیں

ہم سے کر کے وفاؤں کے وعدے

غیر سے بھی نبھائے بیٹھے ہیں

تم نہیں دے سکے وفا ہم کو

ہم تو جاں تک لٹائے بیٹھے ہیں

جن کی خوشبو کبھی نہ کم ہو گی

پھول ایسے کھلائے بیٹھے ہیں

معتبر کر لیا ہے خود کو یوں

عشق دل میں بسائے بیٹھے ہیں

صاعقہ علی نوری Kis liye dil lagaye baithe hain?
Apna sab kuch lutaye baithe hain

Teri ulfat mein hum se naqis bhi
Chand taare sajaye baithe hain

Noor aankhon mein yaad ka bhar ke
Chashm-e-nam jagmagaye baithe hain

Hum se kar ke wafaaon ke waade
Ghair se bhi nibhaye baithe hain

Tum nahin de sake wafaa hum ko
Hum toh jaan tak lutaye baithe hain

Jin ki khushbo kabhi na kam hogi
Phool aise khilaye baithe hain

Moatabar kar liya hai khud ko yun
Ishq dil mein basaye baithe hain

— Saaiqah Ali Noori

Edit: I added roman urdu.

u/kcahrot — 1 day ago
▲ 1 r/Urdu

مسکراہٹ اور ہرن (ایک صبح کا قصہ)

یہ ایک سردیوں کی صبح تھی، لیکن یہ پڑھ کر ٹھٹھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کراچی کی سردی کا ذکر ہے۔ میں ایک دوست کے ساتھ بائیک پر جا رہا تھا، ہم اس وقت راشد منہاس روڈ پر تھےکہ اچانک بائیک کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ ایسے کام اچانک ہی ہوتے ہیں۔ اگر بتا کر ہوں تو لوگ پہلے سے سدِ باب کر لیں اور منصوبہ سازی کے وقت، پنکچر والے کے لئے بھی آدھا گھنٹہ ضرور مختص کریں۔

خیر، وہاں قریب ہی ایک بین الاقوامی کمپنی کا ایندھن اسٹیشن تھا۔ ہم نے وہاں پہنچ کر پنکچر والے سے رابطہ کیا۔ پنکچر کی دوکان پر دو تین نوجوان خوش گپیوں میں مصروف تھے ، ساتھ ساتھ اُن کے ہاتھ تیزی سے ٹائر پنکچر لگانے کا فریضہ بھی انجام دے رہےتھے۔ جس نوجوان نے ہمارے دوست کی بائیک کا ٹائر کھولا وہ بھی مسکرا رہا تھا اور اُس کی مسکراہٹ کافی دلنشین تھی۔ پنکچر لگانے والے دیگر کاریگر ایک دوسرے کو لطیفے بھی سنا رہے تھے اور کوئی بات کہہ کہ ہمارے دوست کو بھی ہنسا دیا۔

اس دوران ہم یہ بھی دیکھ چکے تھے بین الاقوامی کمپنی کی ٹائر شاپ ہونے کے ناطے یہ دوکان بہت صاف ستھری تھی اور اس پر اُن کے قوانین اور دیگر کتبے بھی لگے ہوئے تھے۔ ایک کتبے پر یہ بھی لکھا تھا کہ “کیا آپ کو ہماری خدمات سے خوشی ہوئی۔” یا اس سے ملتا جلتا کوئی فقرہ تھا۔

بڑے اداروں کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اُن کے ہاں صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ رکھ رکھاؤ بھی ہوتا ہے۔ اور ان کی خدمات بھی بہتر ہوتی ہیں، یہاں کے ملازمین بھی عوامی رابطے کے دوران خوش اخلاقی سے کام لیتے ہیں۔ اس کے بر عکس چھوٹی دوکان والے چونکہ ان سب آداب سے واقف نہیں ہوتے سو وہ گاہک سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ عموماً ٹائر شاپ پر پہنچنے والے لوگ بھی طوعاً و کرہاً پہنچتے ہیں اور اُن کا مزاج بھی بگڑا ہوا ہوتا ہے اوراس پر مستزاد یہ کہ چھوٹی دوکان والے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتے ۔ ایسے میں عام طور پر طبیعت کی گرانی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔

بہر کیف، اس دوران ٹائر مرمت کا کام ہو چکا تھا اور ٹائر شاپ والوں نے پنکچر لگانے کے بجائے نئی ٹیوب لگانے کو تجویز کیا تھا۔ کام بہت جلدی بھی ہوگیا اور اچھا بھی ہوگیا ساتھ ساتھ ہمارے ہمنشین مسکرا بھی لیے۔ البتہ یہ مُسکراہٹ اُس وقت اچانک ہرن ہو گئی جب ٹائر شاپ والوں نے اُن سے ساڑھے تین سو کی ٹیوب کے چھے سو روپے لئے۔

دنیا میں ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے پھر بھلا کارپوریٹ خوش اخلاقی آپ کو مفت کیسے مل سکتی ہے؟

تحریرنویس

u/kcahrot — 10 days ago