اٹھ جائیں مسافر ا گئی منزل تیری
سفر ختم ہونے کو آیا ہے
کہاں رہ گئی اُمید سنواری تیری
اب نہیں دیکھتا تو کھڑکیوں کے باہر
کیا دکھتی نہیں تُجھے آشآ محبت اُس کی
اب کرتا نہیں تو تفکّیش اُس کی موجودگی کی
کیا ہوگئی تُجھے معلوم بیوفائی اُس کی
اب سنتا نہیں تو حجت بےگناہ اس کی
کیا جواب دے دیے کسی اور نے خاطر اُس کے
یہ آواز سننے کی نہیں ہوئی ہمت تیری
چھل اور حاق کے بیچ میں فرق کرنا تُجھے کہاں آتا تھا راوی
تو تو خوش ہوجاتا تھا سن کے آواز اُس کی