اب اسے کون بتائے
​
معلوم ہے مجھے، عشق ہے اُس سے،
مگر اب اُسے کون بتائے۔
تمناۓ وصال سے دل،
ہر شب سرگرداں رہتا ہے۔
دل کا پنہاں ہر فسانہ،
اب اُسے کون بتائے۔
خوفِ ہجر بھی ہے،
اور رسوائی کا اندیشہ بھی۔
لفظ لب تک آ کر ٹھہر گئے،
اب اُسے کون بتائے۔
اِس دریائے عشق میں،
میں اپنی ہستی فنا کر بیٹھا۔
وہ بے خبر ہی رہی،
میری کیفیت سے۔
اب ملنا بھی مقدر نہیں،
وہ اُس سمت چلی گئی،
جدھر میں صرف اُس کی خاطر آیا تھا۔
اب اُسے کون بتائے۔
یہ اوراق بھی اُسی کے نام ہیں،
ہر مصرع اُسی کو پکارے۔
قلم تھک بھی جائے تو کیا،
قصہ ادھورا رہ بھی جائے تو کیا۔
دل ہر دم یہی پکارے،
اب اُسے کون بتائے۔
؍سلوٰی