






AI Slop in Theatres
گزشتہ ماہ جنریٹِو اے آئی کے اُگلے ہوئے گند پہ مشتمل ایک اینیمیٹڈ فلم، عینک والا جن، سینما گھروں کے پردوں پہ تھوپی گئی۔
ایسے ملک میں جہاں گلاس ورکر بنائی گئی، جہاں مانو، لُونا کینوس، اور مِیکُو اینیمیشن جیسے سٹوڈیو موجود ہیں، جہاں کے اینیمیٹر ڈِزنی کی لیے اور اینیمے انڈسٹری کیلیے کام کر کے اپنا لوہا منوا چکے ہوں، وہاں ایسی گھٹیا حرکت کرنے کی کیا توجیہ پیش کی جا سکتی ہے؟
اور اس ناپاک تجربے کیلیے استعمال کیا گیا تو عینک والا جن! ایسا شو جو کہ ایک پوری نسل کا بچپن تھا۔ ایک یادگار فن پارے کی، ایک نسل کے نوسٹالجیا کی، یوں سرِ عام بولی لگائی گئی۔
عینک والا جن کے خالق، جناب حفیظ طاہر نے اپنے انسٹا iamhafeeztahir@ پہ ایک وِڈیو میں اس ذلیل حرکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے، اور اس مذموم پروجیکٹ سے مکمل اعلانِ براءت کیا ہے۔
اتنی بھونڈی اینیمیشن، ٹریلر کے ایک ایک فریم سے گھٹیا پن ٹپکتا ہے۔ یہاں تک کہ اے آئی کمپنی کا واٹر مارک بھی صاف نظر آتا ہے۔
حد ہے۔
اردوتاکُو
#عینک۰والا۰جن #جنریٹِو۰اے۰آئی #اینیمیشن #پاکستانیمیشن